"فلسطینی مسلمان: استقامت، ایمان، اور آج کی دنیا میں شناخت کی جدوجہد"
"فلسطینی مسلمان: استقامت، ایمان، اور آج کی دنیا میں شناخت کی جدوجہد"
فلسطینی مسلمان: استقامت، ایمان، اور شناخت کی جدوجہد
فلسطین کا نام آتے ہی ذہن میں ایک ایسی سرزمین آتی ہے جو صدیوں سے دکھ، قربانی، اور جدوجہد کی علامت بنی ہوئی ہے۔ وہاں کے مسلمان نہ صرف زمین سے جڑے ہوئے ہیں، بلکہ اپنے ایمان، ثقافت اور پہچان کے لیے ہر روز ایک نئی جنگ لڑتے ہیں۔ یہ کہانی صرف سیاست یا سرحدوں کی نہیں — یہ انسانوں کی، ان کے دلوں کی، ان کے خوابوں کی کہانی ہے۔
مٹی سے جڑی پہچان
فلسطینی مسلمانوں کی شناخت صرف ان کے ناموں یا شہریت کی بات نہیں۔ یہ ان کی مسجد اقصیٰ سے محبت، پرانے شہر کی گلیوں کی خوشبو، اور زیتون کے درختوں کی چھاؤں جیسی ہے۔ یہ ماضی کے ان رشتوں کی بات ہے جو صدیوں سے ان کی روح میں بسا ہوا ہے۔
جب لاکھوں لوگ 1948 میں اپنے گھروں سے نکالے گئے، تو وہ صرف زمین سے نہیں، اپنی یادوں، قبروں، اور تہذیب سے بھی جدا کیے گئے۔ مگر یہ یادیں، یہ احساس، آج بھی ان کے دلوں میں زندہ ہیں — چاہے وہ غزہ میں ہوں، مغربی کنارے میں، یا دنیا کے کسی کونے میں بطور مہاجر۔
ایمان: زخموں پر مرہم
جب زندگی میں ہر طرف اندھیرا ہو، جب گھر کے دروازے توڑ دیے جائیں، جب بچے گولیوں کی آواز میں سونے کے عادی ہو جائیں — تب ایک چیز ہوتی ہے جو انسان کو جوڑے رکھتی ہے: ایمان۔
نماز، روزہ، اذان کی آواز، یا قرآن کی تلاوت… یہ سب کچھ فلسطینی مسلمانوں کے لیے صرف عبادت نہیں، بلکہ جینے کا سہارا ہے۔ ان کے صبر کی بنیاد بھی یہی ایمان ہے، ان کے خوابوں کی روشنی بھی۔
نوجوانوں کی الجھن
آج کا فلسطینی نوجوان ایک عجیب دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک طرف جدید دنیا ہے، سوشل میڈیا، تعلیم، اور آگے بڑھنے کی چاہ؛ دوسری طرف اپنی جڑیں، اپنے بزرگوں کی دعائیں، اور شہیدوں کی قربانیاں۔
وہ چاہتے ہیں کہ دنیا ان کی بات سنے، ان کو سمجھے، صرف مظلوم یا جنگجو نہ سمجھے۔ اسی لیے وہ شاعری لکھتے ہیں، تصویریں بناتے ہیں، اور اپنی آواز دنیا تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا کا سہارا لیتے ہیں۔
دنیا کی نظریں اور خاموشیاں
دنیا کبھی کبھار ان کے حق میں آواز بلند کرتی ہے، کبھی ریلیاں نکلتی ہیں، کبھی سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگز بنتے ہیں۔ لیکن زیادہ تر وقت، فلسطینیوں کی تکلیف پر ایک خاموشی چھائی رہتی ہے۔ انہیں اکثر صرف خبروں میں، یا سیاست کے میدان میں دیکھا جاتا ہے — جیسے وہ انسان نہیں، بس کوئی مسئلہ ہوں۔
لیکن حقیقت یہ ہے: وہ بھی ہماری طرح انسان ہیں۔ ماں کے لیے آنسو بہانے والے بیٹے، بچوں کے لیے خواب سجانے والے والد، اور اپنے کھنڈر بنے گھروں میں امید کا دیا جلانے والی مائیں۔
روشنی ابھی باقی ہے
جو بات سب سے زیادہ حیران کرتی ہے، وہ یہ ہے کہ اتنے دکھوں کے باوجود بھی فلسطینی ہار نہیں مانتے۔ وہ پھر بھی پڑھتے ہیں، سکھاتے ہیں، عبادت کرتے ہیں، محبت کرتے ہیں۔
ان کے لیے جینا ایک مزاحمت ہے، اور مسکرانا ایک انقلاب۔
یہ کہانی صرف فلسطین کی نہیں، یہ ہم سب کی ہے — کیونکہ جب کسی انسان کی پہچان چھیننے کی کوشش کی جائے، تو وہ جدوجہد صرف ایک قوم کی نہیں، پوری انسانیت کی ہوتی ہے۔

Comments
Post a Comment